ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / دہلی پہنچ کر کسانوں نے ختم کی تحریک

دہلی پہنچ کر کسانوں نے ختم کی تحریک

Wed, 03 Oct 2018 19:09:45    S.O. News Service

نئی دہلی،03 اکتوبر (آئی این ایس انڈیا؍ ایس او نیوز) دس دن قبل اپنے مطالبات کو لے کر ہریدوار سے شروع ہو ئی کسان کرانتی یاترا منگل کی دیر شب دہلی پہنچ کر ختم ہو گئی۔ کسان تنظیموں اب اپنے اپنے گھروں کو واپس ہونے لگی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہلی کی سرحد سے ملحق علاقوں میں ٹریفک بھی معمول پر آگیا ہے۔

منگل کی صبح اپنے مطالبات کو لے کر یوپی گیٹ، آنند وہار اور اپسرا بارڈر پر مظاہرین کسانوں کے حکومت کے ذریعہ کئی مطالبات مان لئے جانے کے باوجود کسان اس بات پر بضد رہے کہ وہ اپنی یاترادہلی کے کسان گھاٹ پر جاکر ہی ختم کریں گے۔ بعد میں نصف شب بعد کسانوں کو دہلی کی سرحد میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی تو کسان تنظیموں نے کسان گھاٹ پہنچ کر سابق وزیر اعظم آنجہانی چودھری چرن سنگھ کی سمادھی ''کسان گھاٹ''پر گلہائے عقیدت پیش کر اپنی تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

 اس سے قبل 2اکتوبرکی صبح سے شام تک کسانوں کو دہلی کی سرحد میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا ۔ سرحد پر ڈٹے کسانوں کی اس دوران پولس کے ساتھ پرتشدد جھڑپ بھی ہوئی ۔ پولس نے پہلے ان پر آنسو گیس اور پانی کی بوچھاریں ڈالیں ۔ اس کے بعد ان پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ بعد میں آدھی رات کے بعد جب انہیں کسان گھاٹ جانے کی اجازت مل گئی تب انہوں نے دہلی سے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ کچھ کسانوں کے ٹریکٹر ٹرالیوں کی ہوا نکالے جانے یا پھر ان کے خراب ہونے کی وجہ سے انہیں صبح کے بعد بھی وہیں رکنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ کسان تنظیمو ں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے کئی مطالبات مان لئے ہیں اور باقی مطالبات کے لئے حکومت کو میمورینڈم دیا گیا ہے۔ انکے لئے حکومت نے وقت مانگا ہے۔ لاٹھی چارج کے لئے دہلی پولس نے معافی مانگی ہے۔ بھارتی کسان یونین کے صدر نریش ٹکیٹ نے کہا کہ کسان گھاٹ پر پھول چڑھا کر ہم اپنی تحریک ختم کررہے ہیں۔ 23ستمبر کو شروع ہوئی 'کسان کرانتی پد یاترا'کو ہمیں دہلی کے کسان گھاٹ پر ختم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولس نے پہلے ہمیں دہلی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جس کی ہم نے مخالفت کی۔ ہمارا مقصد صرف یاترا کو مکمل کرنا تھا جو ہم نے کر لیا۔ اب ہم لوگ اپنے گاؤں واپس چلے جائیں گے۔


Share: